20 جولائی 2026 - 16:05
رہبر معظم اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کا حالیہ بیان دکی تباہی اور ہمہ گیر حملے کے نظریے کا تجزیہ -2

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ‌ای (حفظہ اللہ)، ایک سیاسی انتباہ سے کہیں بڑھ کر، درحقیقت ایک عملیاتی اعلامیہ (Operational statement) ہے جو خطے کے دفاعی فارمولوں میں بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ [---]

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ‌ای (حفظہ اللہ)، ایک سیاسی انتباہ سے کہیں بڑھ کر، درحقیقت ایک عملیاتی اعلامیہ (Operational statement) ہے جو خطے کے دفاعی فارمولوں میں بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ [---] جب پیغام کے متن میں فراموش نہ ہونے والے اسباق اور ایران کے خطۂ جنوب کی بہادریوں کا ذکر آتا ہے، تو ہم اب جارحیتوں کے جواب کے کلاسیکی طریقے کا سامنا نہیں کر رہے ہیں۔ درحقیقت، یہ پیغام اعلان کر رہا ہے کہ متناسب جواب کا دور ختم ہو چکا ہے اور ہم ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں: ٹھکانوں کی مکمل تباہی اور ہمہ جہت حملوں کا مرحلہ۔

دوسرا اور آخری حصہ:

داخلی اتحاد حملے کے لاجسٹک انفراسٹرکچر کے طور پر

اس پیام کا کلیدی اور بنیادی نکتہ داخلی اتحاد اور عملیاتی طاقت (Operational capabilty) کا باہمی تعلق ہے۔ اتحاد کے تحفظ اور انتشار سے بچنے پر زور درحقیقت ایک لاجسٹک ایجنڈا ہے۔ جو بھی فوجی نقطۂ نظر سے واقف ہے، وہ جانتا ہے کہ ہمہ گیر حملے کی حکمتِ عملی پر عملدرآمد کے لئے ایک متحدہ سماجی پشت پناہی اور مربوط و مرکوز عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مرحلے پر سیاسی تفرقہ اندازی محض ایک سیاسی کھیل نہیں، بلکہ قومی ارادے میں شگاف ڈالنے کی کوشش ہے تاکہ انہدام کی پالیسی کے تحت مجوزہ حملوں اور ضربوں کے نفاذ میں رکاوٹ ڈالی جا سکے۔ لہٰذا، اس دور میں کوئی بھی سیاسی اختلاف درحقیقت دشمن کے حق میں جاتا ہے اور ہمہ گیر حملے کے لئے عملیاتی ماحول کو محدود کرتا ہے۔

انہدام کے عزم کے مقابلے میں رسوائی کی لاگت

بالآخر، امریکہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایران پر حملہ کرتے ہوئے وہ کسی معمولی فوج یا سرحدوں میں گھری ہوئی حکومت سے نہیں لڑ رہا، بلکہ اس کا سامنا ایک تسدیدی نظریئے سے ہے جو اب ردِ عمل کی حالت سے عمل کی حالت میں داخلے ہو چکا ہے۔ دشمن کو سکھانے کے لئے 'فراموش نہ ہونے والے اسباق' کا مطلب ایسی ضربیں اور حملے ہیں جو نہ صرف جارح کو بھگا دیں بلکہ خطے میں اس کے تمام تر اڈوں اور ٹھکانوں کو جلا کر راکھ کر دیں اس نئے نظریئے میں امریکہ کی بدنامی اور رسوائی کی لاگت یہ ہوگی کہ کہ اس کے اسٹراٹیجک اثاثوں، بنیادی ڈھانچوں ـ یعنی اڈوں، مورچوں اور ساز و سامان ـ کو نیست و نابود کیا جائے، اور ہوگا تو یہی ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: محسن قبادیان قادی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha